-

12 November 2014

mohbat karny waly kam na hon gay



محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے۔
  تیری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے۔
میں اکثر سوچتا ہوں پھول کب تک۔
شریک گریۂ شبنم نہ ہوں گے۔
ذرا دیر آشنا چشم کرم ہے۔
  ستم ہی عشق میں پیہم نہ ہوں گے۔
دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی۔
  اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے۔
زمانے بھر کے غم، یا اک تیرا غم۔
یہ غم ہو گا تو کتنے غم نہ ہوں گے۔
ہمارے دل میں سیل گریہ ہو گا۔
  اگر با دیدۂ پُرنم نہ ہوں گے۔
اگر تُو اتفاقاً مل بھی جائے۔
تری فرقت کے صدمے کم نہ ہوں گے۔
حفیظؔ ان سے میں جتنا بدگماں ہوں۔
وہ مجھ سے اس قدر برہم نہ ہوں گے۔
♥♥♥♥♥

Newer post

Followers

♥"Flag Counter"♥

Flag Counter

facebook like slide right side

like our page

pic headar