-

2 January 2015

tuhare sath yeh din rat b sohany lagay


تمہارے ساتھ یہ دن رات بھی سہانے لگے

بچھڑ کے تم سے اُجالے بھی دل جلانے لگے


نہ جانے کون سے وقتوں کا ذہن تھا میرا

نئے مزاج لیئے لوگ بھی پرانے لگے


یہ اور بات کہ ہم میر ہیں نہ غالب ہیں

مگر کمال کے کچھ شعر سنانے لگے


حسین خواب کی صورت کوئی غزل کہنا

رقیب جس کو سنے اور گنگنانے لگے

♥♥♥♥♥

Newer post

Followers

♥"Flag Counter"♥

Flag Counter

facebook like slide right side

like our page

pic headar