Pages

11 May 2015

tum bin meri zat adhori


تم بن میری ذات ادھوری
جیسے کوئی بات ادھوری
ھجر کے سارے دن ہیں پورے
لیکن ھے ہر رات ادھوری
لفظوں کی گہرائی میں جھانکھوں
سمجھو نہ ہر بات ادھوری
نم آنکھیں اور سُوکھی پلکیں
ھوتی ھے برسات ادھوری
مجھ سے مجھ کو چھین گئے تم
رہ گئی میری ذات ادھوری.
انتخاب 

No comments:

Post a Comment