-

23 November 2014

hath main dohap thi mehtab pay sar rakha tha

ہاتھ میں دھوپ تھی مہتاب پہ سر رکھا تھا
اُس نے حیران مجھے خواب میں کر رکھا تھا
جل پری بھی تھی جزیرے بھی تھےطوفان بھی تھے
سب نے مل کر مجھے آغوش میں بھر رکھا تھا
میں نے رکھے تھے کہیں دل میں چھپا کر کچھ لوگ
اب مجھے یاد نہیں کون کدھر رکھا تھا

شاعر : فیصل عجمی


♥♥♥♥♥

Newer post

Followers

♥"Flag Counter"♥

Flag Counter

facebook like slide right side

like our page

pic headar