Pages

23 May 2015

apny dil ko sambahal kar rakhna




اپنے دل کو سنبھال رکھنا تھا
کُچھ تو میرا خیال رکھنا تھا
کب یہ چاہا تھا بھول جاؤ مُجھے
اک تعلق بحال رکھنا تھا
شب۔ہجراں کی حد نہیں ہوتی
پھر بھی شوق۔وصال رکھنا تھا
جھوٹ بولو تو یوں لگے کہ سچ
ایک فن میں کمال رکھنا تھا
اُس نے جینا محال رکھا ہے
اُس نے جینا محال رکھنا تھا
کُچھ تو خُوشیوں پہ حق مرا بھی ہے
دل میں کب تک ملال رکھنا تھا
اُس کو معلوم تھامیرا جواب
پھر بھی اس کو سوال رکھنا
تھا

No comments:

Post a Comment